“He who makes peace between people by inventing good information or saying good things, is not a liar.”
Saturday, January 21, 2012
اردو ترکی کا لفظ ہے، جِس کا تلفظ ’اوردو‘ ہے اور معنی فوج کے ۔۔
کئی برس پہلے’ وائس آف امریکہ‘ کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو میں پروفیسرخلیل توقر نے’اردو اور بر صغیر کے مسلمانوں کے ساتھ اپنی قربت اور یگانگت‘ کا ذکر کیا۔
اِس انٹرویو میں خلیل توقر نے بتایا کہ اُنھوں نے اردو استنبول یونی ورسٹی میں پڑھی۔ پھر اردو کے ساتھ اتنی رغبت بڑھی کہ
اسی زبان میں شاعری شروع کردی۔ اپنی شاعری کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے یہ دلچسپ انکشاف کیا کہ ُان کی اہلیہ کا تعلق لاہور سے ہے۔ شادی سے قبل اُنھوں نے اپنے جذبات کے اظہار کے لیے شاعری کو ذریعہ بنایا۔
وہ کہتے ہیں : ’ہوا یہ کہ میں اپنا درد و الم، شکوہ شکایات جو دوسروں سے چھپا رہا تھا تو میں اسے اپنی اہلیہ سے چھپانے کے لیے شاعری کا سہارا لیا، تاکہ اُن کو میری باتیں بری نہ لگیں ۔ اور یوں میں شعر کہتا رہا ۔ پھر، بعد میں، میری اہلیہ نے میرے اشعار جمع کرنا شروع کردیے’۔
’اب میرے کلام کے دو مجموعے ہیں۔ ایک کا نام ہے’ ایک قطرہ آنسو‘ اور’ آخری فریاد‘۔ ویسے، میں خود بنیادی طور پر بے حد شرمیلا ہوں۔ اِس لیے، میں دوسروں کو اپنی شاعری نہیں دکھاتا۔ زیادہ تر میں آزاد شاعری کرتا ہوں۔ میں نے شاعری کے لیے باقاعدہ شاگردی اختیا ر نہیں کی۔ مجھے شروع سے کلاسیکی شاعری کا شوق ہے۔ مجھے میر، غالب، فیض اور ن م راشد بہت پسند ہیں‘۔
خلیل توقر کہتے ہیں کہ میں شاعری کرتے ہوئے یہ سوچتا ہوں کہ اپنے اندر کے درد و الم کو بیا ن کروں۔ ’میں نے ایک ادبی رسالہ ’ارتباط‘ کے نام سے نکالا ، جس کا مقصد نئی نسل کو اپنے صدیوں پرانے تعلقات سے روشناس کرانا اور اُن کی تجدید کرنا تھا۔
چند اشعار:
اہلِ دل سے کر لیا عہدِ وفا پھر کیا ہوا
جامِ غم میں بھر دیا غم بے وفا پھر کیا ہوا
بر سرِ عالم کہا ہٹ جا مری رہ سے خلیل
زندگی سے کر دیا مجھ کو خفا پھر کیا ہوا
جنونِ محبت کی سرحد سے آگے
بٹھا کر اکیلے میرے یار بھاگے
چھپایا غمِ دہر قلبِ حزیں میں
فرشتے مری آہ سن کے نہ جاگے
ایک آزاد نظم کا اقتباس:
انسانیت کہاں گئی ہے انسانو
مجھے اب تک اس کی تلاش رہتی ہے
تھک گیا لاچار ہوا بے بس رہا
برسوں سے دھونڈتا رہتا ہوں اسے
نہیں ملا اس کا نشان تک مجھے
Wednesday, January 18, 2012
Tuesday, January 17, 2012
Meet Roshaneh Zafar
Did you know that one of the most successful microfinance organizations in the world is actually setup in Pakistan by a Pakistani woman? I am talking about Kashf Foundation and it’s founder Roshaneh Zafar. And while I was searching for more information, I came across a very interesting fact about her which is going to pleasantly surprise many. But for this you have to wait till the end.
Roshaneh received her BSc in Finance and BA in Economics from the University of Pennsylvania and her MA in International Development Economics from Yale University. Inspired by the success of Grameen Bank, Roshaneh left her World Bank post to start the Kashf Foundation in 1996. It was the first microfinance institute in Pakistan.
With a growing staff base of 1,600 employees in 152 branch locations in Punjab and Sindh, the Kashf Foundation offers customers two loan products: a general loan (up to US$ 138) for building economic opportunities, and an emergency loan (up to US$ 35) for families to meet unplanned expenditures or emergencies.
In 2002, Kashf Foundation was awarded the Microfinance Excellence Award by the Grameen Foundation-USA for its groundbreaking innovations in the field of microfinance in Pakistan. In 2005 it won the AGFUND International Prize for Microcredit 2005 out of 98 countries. In 2008, Forbes ranked Kashf Foundation 34th in its top 50 MFIs of the World. Ms. Zafar has also been awarded the Tamgha-i-Imtiaz, one of Pakistan’s highest civilian awards 2005, by the President of Pakistan.
Finally, here is the surprise I mentioned earlier. Watch the videos below and unlock the mystery.
and
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.....
(taken from http://mintopark.com/2011/08/28/roshaneh_zafar/)
Saturday, January 14, 2012
Subscribe to:
Posts (Atom)
















