Monday, November 16, 2020

تعلیمی ادارے 20 نومبر سے 31 جنوری تک بند رکھنے کی تجویز پیش

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کی زیر صدارت بین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس ہوئی جس میں تمام صوبائی وزرا نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں کو بند کرنے اور موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے بات چیت کی گئی۔ تفصیلات کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں کورونا کیسز خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔



وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے کہا کہ بچوں اور اساتذہ کی جان زیادہ عزیز ہے۔ بچوں اور اُساتذہ کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ اجلاس میں تعلیمی اداروں میں 20 نومبر سے 31 جنوری تک موسم سرما کی تعطیلات دینے کی تجویز پیش کی گئی ۔ تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے معاملے پر کچھ شرکا نے حمایت کی اور کچھ نے مخالفت کردی۔

اجلاس میں کہا گیا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے کی بجائے اسمارٹ لاک ڈاؤن پر غور کیا جانا چاہئیے۔

اجلاس میں تعلیمی سال یکم اگست سے شروع کرنے کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ ذرائع کے مطابق اجلاس کے شرکا کی جانب سے یونیورسٹیز اور کالجز بند نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق بین الصوبائی وزرائے تعلیم کا اجلاس آئندہ ہفتے دوبارہ ہو گا جس میں صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔ دوسری جانب آج شام این سی سی کا اجلاس ہو گا جس کی صدارت وزیراعظم عمران خان خود کریں گے۔

اجلاس میں صحت کے وزیر اور چیف سیکرٹریز بھی شریک ہوں گے۔ تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات سے متعلق حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ملک بھر میں کورونا وائرس کی دوسری لہر شدت اختیار کر گئی ہے۔ گذشتہ روز سابق معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے کورونا پھیلاؤ روکنے کے لیے تعلیمی اداروں میں قبل ازقت موسم سرما کی تعطیلات کو لازمی قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ ہم یہ نہیں کہتے کہ سکولوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کردیا جائے صرف این سی اوسی کی سفارشات پر عمل کیا جائے اور موسم سرماکی چھٹیاں قبل ازوقت دے کر ان میں تھوڑا اضافہ کردیا جائے۔ خیال رہے کہ قبل ازیں وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے موسم سرما کی چھٹیوں کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ پنجاب میں اسکولز بند کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں ہوا ۔

میری سمجھ کے مطابق موسم سرما کی چھٹیاں نہیں ہونی چاہئیں۔ جبکہ دوسری جانب صدر آل پاکستان صدرآل پاکستان پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کاشف مرزا نے واضح بیان جاری کر چکے ہیں کہ اسکولز دوبارہ بند نہیں ہوں گے، جبکہ اسکولز بند کرنے سے متعلق حکومتی تجویز بھی مسترد کی تھی اور کہا تھا کہ وقت کی قلت کی وجہ سےموسم سرماکی تعطیلات نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی سال اپریل کے بجائے اگست تک کرنے کی تجویز بھی مسترد کرتے ہیں۔

صرف اسکولز میں ایس او پیز پر عمل کیا جا رہا ہے۔ کورونا میں پہلے ہی کروڑوں طلبا کی تعلیم کا ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم آن لائن ایجوکیشن سے مطمئن نہیں ہیں۔ آن لائن ایجوکیشن میں طلبا اساتذہ پر توجہ نہیں دیتے۔ تاہم تعلیمی اداروں میں موسم سرما کی تعطیلات کے حوالے سے حتمی فیصلہ آج شام وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔


موسم سرما کی چھٹیوں سے متعلق اہم فیصلہ جلد متوقع

 

ین الصوبائی وزرائے تعلیم کانفرنس پیر کو ہوگی، کانفرنس میں موسم سرما کی چھٹیاں 25 دسمبر سے قبل دینے سمیت تعلیمی اداروں کو کورونا کے پیش نظر مکمل بند کرنے کی بجائے سمارٹ لاک ڈاؤن کے ذریعہ بند کرنے پر بھی غور ہوگا۔



ملک بھر کے وزرائے تعلیم کانفرنس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہونگے۔ کانفرنس کی صدارت وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کریں گے۔ کانفرنس میں موسم سرما کی چھٹیاں 25 دسمبر سے قبل دینے پر مشاورت ہوگی۔

تعلیمی سال اپریل کی بجائے یکم اگست سے شروع کرنے کا معاملہ بھی زیرغور ہوگا۔ اس سے قبل 5 نومبر کو بین الصوبائی وزرا کانفرنس میں سکول کھلے رکھنے پر اتفاق کیا گیا تھا۔  واضح رہے کہ کورونا کی دوسری لہر شدید ہونے پر نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر نے سینما، تھیٹر اور درباروں کو فوری بند کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ تعلیمی اداروں میں قبل از وقت موسم سرما کی تعطیلات،عوامی اجتماعات پر پابندی اور مارکیٹیں جلد بند کرنے پر بھی غور جاری ہے۔

 نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کا اجلاس وفاقی وزیر منصوبہ بندی اور ترقی اسد عمر کی صدارت میں ہوا، جس میں ملک اور خاص طور پر تعلیمی اداروں سے حاصل ہونے والے کووڈ 19 کے کیسز سے متعلق اعداد وشمار کا جائرہ لیا گیا، اجلاس کے شرکاء کو کورونا ایس او پیز پر بریفنگ دی گئی۔

Friday, January 15, 2016

وٹس ایپ بمقابلہ ٹیلی گرام


فیس بک کی ملکیت میں آتے ہی کچھ گھنٹوں کے لیے وٹس ایپ کی سروس ڈاؤن ہونے نے کافی لوگوں کو شبہات میں مبتلا کر دیا۔ وٹس ایپ نئے فیچرز کے ساتھ تو سامنے آگیا لیکن اس دوران لوگوں نے اس کا متبادل دیکھنا شروع کر دیا، کیونکہ سکیوریٹی خدشات کی بِنا پر فیس بک پہلے ہی کافی بدنام رہی ہے۔ ’’ٹیلی گرام‘‘ ایپلی کیشن کو وٹس ایپ کا بہتر متبادل قرار دیا گیا ہے۔

ٹیلی گرام کی پہلی خاص بات تو یہ ہے کہ یہ اوپن سورس کے تحت مفت دستیاب ہے۔ اس کا اوپن سورس ہونا سکیوریٹی کے تمام خدشات کو ختم کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ انتہائی سادہ اور برق رفتار ہونا اس کی دوسری خوبی ہے۔ گروپ چیٹ کے معاملے میں بیک وقت 200 لوگوں کا گروپ بنا کر چیٹ کی جا سکتی ہے۔ ایک جی بی تک کی وڈیو، لاتعداد تصاویر اور میڈیا فائلز وغیرہ اس کی مدد سے بھیجی اور موصول کی جا سکتی ہیں۔

“سکیوریٹی کے معاملے میں حساس لوگوں کے لیے انکرپٹڈ سیکرٹ چیٹ کا آپشن بھی موجود ہے۔”

ٹیلی گرام ایپلی کیشن اکتوبر 2013 میں منظر عام پر آئی۔ وٹس ایپ کی مقبولیت کی وجہ سے اسے اپنی جگہ بنانے میں کافی تگ و دو کرنی پڑی جو تاحال جاری ہے۔ کیونکہ وٹس ایپ کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔

ان سب باتوں کے باوجود آئیے دونوں ایپلی کیشنز کا موازنہ کر کے دیکھتے ہیں۔
وٹس ایپ پہلے سال مفت جب کہ اگلے سال سے ایک ڈالر سالانہ فیس کا مطالبہ کرتی ہے جبکہ ٹیلی گرام بالکل مفت ہے۔
ٹیلی گرام صارفین کے لیے تیز ترین میسجنگ کا سسٹم لائی ہے، تاحال اس کا میسجنگ سسٹم سب سے تیز ثابت ہوا ہے۔
ٹیلی گرام میں پیغامات کی مکمل سکیوریٹی کے لیے انکرپٹڈ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ حتیٰ آپ ایسے میسج بھی بھیج سکتے ہیں جو آگے فارورڈ نہیں کیے جا سکتے۔ ایسا کوئی فیچر وٹس ایپ میں موجود نہیں۔
ٹیلی گرام کے ذریعے پیغامات پر ٹائم سیٹ کیا جا سکتا ہے اور مقررہ ٹائم کے بعد وہ پیغام موصول کرنے والے کے ان باکس سے خود بخو دڈیلیٹ ہو جاتا ہے۔
ٹیلی گرام اوپن سورس کے تحت دستیاب ہے اور ڈیویلپرز کے لیے API فراہم کرتی ہے تاکہ یہ ایپلی کیشن دیگر پلیٹ فارمز کے لیے بھی بنائی جا سکے۔
وٹس ایپ میں 50 لوگوں سے جبکہ ٹیلی گرام میں بیک وقت 200 لوگوں سے گروپ چیٹ کی جا سکتی ہے۔
ایک جی بی سائز تک کی فائلز شیئر کرنے کی سہولت ٹیلی گرام میں موجود ہے۔



ٹیلی گرام ڈیسک ٹاپ ورژن
ٹیلی گرام اینڈروئیڈ، آئی او ایس، ونڈوز فونز کے علاوہ ونڈوز پی سی اور لینکس کے لیے بھی دستیاب ہے۔ ونڈوز پر اسے استعمال کرنے کے لیے اس کا ڈیسک ٹاپ ورژن بھی اس کی ویب سائٹ سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اسے استعمال کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ٹیلی گرام فون پر انسٹال کر کے اکاؤنٹ بنایا جائے۔


مزید معلومات کے لیے و ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے ویب سائٹ ملاحظہ کریں:

https://telegram.org/apps

Sunday, March 29, 2015

حوثی کون ہیں

جو لوگ تفصیل سے یمن کے حالات اور وہاں ہونے والی بغاوت کے بارے جاننا چاہتے ہیں وہ یہ تحریر ضرور پڑھیں
حوثی کون ہیں ?

یہ مسلک کے اعتبار سے زیدی شیعہ ہیں۔ حضرت علی کے نسب سے ایک فقیہ زیدبن علی بن حسین کی اتباع کرتے ہیں اور انہیں اپنا امام مانتے ہیں۔ یہ خود کوشیعہ کہتے ہیں لیکن انکے عقائد ونظریا ت اثناعشری شیعوں سے زیادہ اہل سنت سے ملتے ہیں۔ ان کا اہل سنت سے بنیادی اختلاف امامت (خلافت) کے قضیے پر ہے۔ان کا ماننا ہے کہ امامت کا منصب خاندانِ علیؓ کے ساتھ مختص ہے۔ہاشمی کے علاوہ کوئی شخص خلافت کا اہل نہیں ہوسکتا۔
زیدی شیعہ کسی صحابی کے لئے نامناسب لفظ استعمال نہیں کرتے۔یہ سب کا احترام کرتے ہیں۔یہ اہل سنت کی مساجد میں نمازیں بھی ادا کرتے ہیں۔انکے کئی ایسے جلیل القدر فقہاء گزرے ہیں ہیں جنکی کتابوں سے اہل سنت استفادہ کرتے ہیں۔اسکی بہترین مثال علامہ شوکانی ہیں۔یہ زیدی عالم تھے اور اور یمن کے تھے۔انکی لکھی ہوئی کتاب نیل الاوطار آج بھی اہل سنت کے مدارس کی لائبریریوں کی زینت ہے۔
یہ چونکہ امامت آلِ علی کا حق سمجھتے ہیں اس لئے انہوں نے عباسی خلیفہ مامون کے دور میں ایک زبردست انقلابی تحریک چلائی تھی۔مقصد یہ تھا کہ خلافت عباسیوں سے چھین کر کسی صالح ہاشمی کو سونپ دی جائے۔مامون نے طاقت سے تحریک کو کچلنا چاہا مگر ناکام ہو۔بالآخر معاہدے کے تحت اس نے یمن کاسارا علاقہ زیدیوں کو دے دیا جہاں انہوں نے اپنی الگ سلطنت قائم کرلی۔ اُس وقت سے لے کر 1962 کے فوجی انقلاب تک کسی نہ کسی شکل میں یہ اقتدار کا حصہ رہے ہیں۔عثمانی خلافت کے دورانیے میں بھی یمن کے بڑے حصے پر قابض رہے۔یہی وجہ ہے یمن ان کا مضبوط گڑھ ہے۔
انکی اکثریت یمن کے ایک علاقے صعدہ میں ہے جبکہ غیرمعمولی تعداد دارالحکومت صنعاء میں بھی رہائش پذیر ہے۔زیدی شیعہ یمن کی آبادی کا 30 فیصد ہیں۔
کچھ عرصے سے حوثیوں نے یمن میں مسلح جدوجہد شروع کررکھی ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں کی حکومت معطل ہوکر رہ گئی ہے۔حتی کہ چند دن قبل انہوں نے دارالحکومت صنعاء پر بھی قبضہ کیا جسے بعد میں چھڑا لیا گیا۔
دراصل 1986 میں زیدی شیعوں نے یمن میں اپنے مذہب کی تبلیغ کے لئے ایک جماعت تشکیل دی،جس کا نام اتحاد الشباب تھا۔اس میں کئی سرکردہ زیدی علماء شامل تھے، جنمیں ایک نام بدرالدین الحوثی کاتھا۔ بدرالدین الحوثی اپنے وقت کے جید عالم سمجھے جاتے تھے۔چار سال تک جماعت کی سرگرمیاں صرف دعوت و تبلیغ تک محدود رہیں۔
1990 میں سعودیہ کی کوششوں کی بدولت شمالی اور جنوبی یمن کے درمیان اتحاد عمل میں آیا۔نقشہ تبدیل ہوگیا۔یمن ایک ہوگیا۔ اگرچہ اقتداربغیرانتخابات کے شمالی حصے کی جھولی میں آیاکیونکہ شمال کا حاکم علی عبداللہ صالح تھا جو سعودی عرب کا تابعدار تھا۔جنوب وسائل سے مالامال ہے لیکن اسکی جھولی میں کچھ نہیں آیا۔اسی لئے جنوب میں دوبارہ علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے۔
1990 کے اتحاد کے بعد سیاسی جماعتوں سے پابندی اٹھا لی گئی۔کئی نئی سیاسی جماعتیں وجود میں آئیں۔زیدی شیعوں نے اپنی الگ سیاسی جماعت بنانے کی ضرورت محسوس کی۔اسکے لئے نئی سیاسی جماعت تشکیل دینے کی بجائے سابقہ تبلیغی جماعت اتحادالشباب ہی کو نیا نام دے کر میدان میں اتار دیا۔اس کا نیا نام حزب الحق تجویز کیاگیا۔جماعت کی صدارت کے لئے حسین بدرالدین الحوثی کو منتخب کیا گیا۔ یہ زیدی عالم بدرالدین الحوثی کا بیٹا تھا۔یہ 1993 اور 1997 میں دوبار سینیٹر منتخب ہوا۔ جماعت ابھی تک ایک محب وطن اور عرب دوست جماعت تھی۔ یہ اہل سنت کے ساتھ مکمل تعاون کرتی تھی۔
اس دوران ایک واقعہ رونما ہوا۔ زیدی علماء نے فتوی جاری کیا کہ دورحاضرمیں امامت (خلافت) کے استحقاق کے لئے ہاشمی نسب کی شرط غیر ضروری ہے۔ بدرالدین الحوثی اس فتوے کی مخالفت میں کھڑا ہوگیا۔اس نے کہا یہ فتوی زیدی عقائد میں تحریف کے مترادف ہے۔ اسے خطرہ لاحق ہوا کہ اس فتوے کے بعد زیدیہ مسلک اہلِ سنت میں ضم ہوجائے گا،اور اس فرقے کی شناخت مکمل طور پر ختم ہوجائے گی۔لہذا اس نے اپنی تقریروں میں زیدیہ مسلک کو اثناعشریہ کے قریب تر ثابت کرنا شروع کردیا۔ حالانکہ یہ خلاف واقع تھا مگر مخالفت میں اسکے افکار متشددانہ ہوگئے۔وہ معتدل زیدی شیعوں کو اثناعشریہ کی طرف مائل کرنے لگا۔
یمن کی حکومت نے اسکے طرزِعمل کا سخت نوٹس لیا۔ جسکی وجہ سے وہ یمن سے ایران منتقل ہوگیا۔ تہران اسے راس آیا۔ اسے ہر طرح کے تعاون کی یقین دہانی کرائی گئی۔ اس کا لٹریچر یمن کے زیدی شیعوں میں پھیلنے لگا۔بالخصوص صعدہ میں اسے قبول عام حاصل ہوا۔
دوسری طرف حسین بدرالدین الحوثی 1998 میں حزب الحق سے الگ ہوگیا۔ اس نے اپنی نئی سیاسی جماعت بنا لی۔ابتداء میں وہ حکومت کا حامی تھا لیکن 2002 میں اس نے حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرنی شروع کردیں۔وہ آئے روز پریس کانفرینس کرتا اور حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتا۔
اس دوران زیدی علماء نے تہران میں مقیم بدرالدین الحوثی کو یمن واپس آنے پر راضی کرلیا۔حکومت نے بھی اجازت دے دی۔ یوں بدرالدین الحوثی یمن واپس آگیا۔
2003میں امریکہ نے عراق پر حملہ کردیا۔ یمن سمیت مشرق وسطی کے تمام عرب ممالک نے اس حملے کی غیرمشروط حمایت کااعلان کیا۔حسین بدرالدین الحوثی نے حکومت کے اس فیصلے کی شدید مخالفت کی۔اس کا کہنا تھا عراق پر حملہ ظلم ہے۔یمن کو اسکی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔ حکومت نے اسکی باتوں کی کوئی پروا نہیں کی۔ اس نے دبایؤ ڈالنے کے لئے حکومت مخالف مظاہروں کا اعلان کردیا۔ حکومت نے ردِعمل میں بھرپور طاقت کا استعمال کیا۔یہ صراحتا غیردانشمندی تھی۔ 30 ہزار فوجیوں کو آپریشن کے لئے اُتار دیا گیا۔جنگی جہازوں اور ٹینکوں کا بے دریغ استعمال ہوا۔یہ خانہ جنگی تھی۔کئی دن لڑائی جاری رہی۔ نتیجے میں حسین بدرالدین الحوثی سمیت سینکڑوں لوگ مارے گئے،اور تمام اسلحہ بھی ضبط کرلیا گیا۔
حسین بدرالدین الحوثی کی موت کے بعد تمام زیدی شیعہ یکجان ہوگئے۔اپنے لیڈر کی جانب نسبت کی وجہ سے حوثی کہلانے لگے۔ جماعت کی قیادت اس کے والد بدرالدین الحوثی نے سنبھال لی۔ اس وقت مصلحت کے پیش نظر جماعت زیر زمین چلی گئی۔ لیکن حوثیوں میں انتقام کا جذبہ باقی تھا۔انہوں نے خفیہ طور پر منظم ہونا شروع کردیا۔ادھر 2008 میں قطر کے توسط سے حکومت اور حوثیوں کے درمیان صلح ہوگئی۔انہیں ضبط کیا ہوا اسلحہ بھی واپس کردیا گیا۔اسکے بعد حکومت مطمئن ہوگئی شاید چنگاری بجھ گئی ہے۔اور بجھ بھی گئی ہوتی اگر انہیں باہر سے شہہ نہ ملتی۔ایران شدت سے منتظر تھا۔
ایران کے لئے یہ صورتحال آئیڈیل تھی۔حوثیوں کا سربراہ اب ایک ایسا شخص تھا جو تہران نواز تھا،جس نے کئی سال وہاں بتائے تھے۔
دوسری طرف یمن کے جنوبی حصے کے عوام بھی حکومت کی زیادتیوں کی وجہ سے ناخوش تھے،انہوں نے بھی حوثیوں کے ہاتھ میں ہاتھ دیدیا۔اب وہ تمام لوگ جو حکومت مخالف ہیں سب حوثی کہلاتے ہیں چاہے وہ شیعہ ہوں یا سنی،اگرچہ اکثریت شیعہ ہیں اور کمان بھی انہی کے ہاتھ میں ہے۔
سعودیہ کے تینوں اطراف میں آگ دہک رہی ہے۔ ایران پوری طرح اسکا محاصرہ کرچکا ہے۔مشرق سے کویت اور بحرین، شمال میں عراق اور جنوب سے یمن۔

ایران اور سعودیہ کی اس جنگ میں نہ خادم الحرمین کو کوئی آنچ آئے گی نہ معزز خامنئی کی دستار پہ دھبہ لگے گا۔ماراجائے گا تو بارہواں کھلاڑی جسکا کوئی کردار ہی نہیں۔ میراپاکستان۔

Tuesday, July 22, 2014

Laylatul Qadr-The Night of Power!

Laylatul Qadr-The Night of Power!


Allah Ta’ala in His infinite Mercy has favoured us in so many ways. Such blessings that we cannot possibly enumerate nor show sufficient gratitude to the Almighty. Amongst the many blessings include a very special GIFT..Laylatul Qadr- The Night of Power.
It is an opportunity to gain closeness to our Creator, forgiveness of our sins and an elevated position in Jannah (Paradise). The Night of Power is better that a 1000 months (83 years, 4 months)!

Allah, Most Wise, says:
"The Night of Power is better than a thousand months.” (Quran 97:3 )

The Messenger of Allah (Peace be upon him) is reported to have said:
“Whosoever stands in "Ibaadah" (worship) on this night, with sincere faith and with genuine hopes of gaining reward, his previous sins will be forgiven." (Hadith-Bukhari and Muslim)

WHEN IS IT?
The Messenger of Allah (peace be upon him) is reported to have said:
"Seek it (laylatul qadr) in Ramadan in the last ten nights. For verily, it is during the odd nights, 21st 23rd, 25th, 27th, 29th or the last night of Ramadhan." (Sahih Hadith Ahmad 5:318)

From traditions we learn that among the signs of this night is that it is a serene, quiet, shining night, neither hot, nor cold but temperate as if a moon is shining clear, and no meteors are shot at the "Shayateen" on that night; it lasts until the break of the dawn. Another sign is that at morn, the Sun rises without any radiant beams of light, appearing rather like the moon in it's fullness. On that day, Allah prohibits the "Shayateen" from rising up with the Sun.

WHAT TO DO ON THIS NIGHT?

Worship during this night can take on many forms. Here are a few suggestions to help you through Laylatul Qadr:

· Take a vacation for Allah! If possible, take a vacation for the last 10 days of Ramadan.Plan ahead if you are working.
· Discuss the importance of this night with your friends and family and Islamic Scholars(Ulama). Create an atmosphere for ibadah(worship).
· Perform Itikaaf (seclusion in a Masjid for worship) –Try to spend full ten days in I’tikaf. If you cannot spend all 10 days in Itikaaf, then do as many days as you can - even if it is only one day. According to the Messenger of Allah (Sallallaho alaihe wasallam) “whosoever performs "I'tikaaf" for a day thereby seeking the pleasure of Allah, Allah will spread three trenches between him and the fire of Hell, the width of each trench being greater than the distance between Heaven and the Earth."
· Increase the recitation of the Qur'an- Try to recite as much Qur’an as possible. There is great virtue in recitation. (reflect on the meaning of the verses, especially the verses used in Salah. This will help you concentrate)
· Increase Salah (prayer).Read as many Nawaafil (optional)Prayers as possible. Eg Tahajjud Salaah, Salatul Tasbih etc
· Make abundant Zikr (i.e remembering Allah, sending salawaat on our beloved Rasulullah(salallaho alaihe wassallam) and making Istigfaar(seeking forgiveness from Allah)
· Dua (Asking from Allah)- Spend lots of time begging from Allah to fulfil your needs and the needs of the Ummah both in this world and the hereafter. Ramadaan is replete with moments when duas are accepted. Aaisha (Radhiallaho anha) reports: "I said: 'O Messenger of Allah (Sallallaho alaihe wasallam), should I find myself the "Laylatul Qadr", what shall I pray. The Prophet (Sallallaho alaihe wasallam) replied: say,
Allaahumma innaka afuwwun tohibbul'afwa fa'fu anna
"O Allah, Thou art the One who grants pardon for sins. Thou lovest to pardon, so pardon me."(Hadith-Recorded by Ahmad, Ibn Majah, and at-Tirmithi)
· Make list of Things you need from Allah-Ask yourself what you really want from Allah. Make a list of each and everything, no matter how small or how big it is, whether it deals with this world or the hereafter. Allah loves to hear from us and wants us to beg of Him. Once this list is ready then use it in your prayers.
· Best time for dua- Make sincere and all-embracing Duas. One of the best times to do this is during the last part of the night especially at the time of suhoor (sehri). Abu Huraira, may Allah be pleased with him, related that Rasulullah (salallaho alaihe wassallam) said: When the last one-third of the night remains, our Lord, the Glorious One descends towards the heaven of the earth and proclaims: Who is that who supplicates for Me, and I grant his supplication? Who is that who begs Me for anything and I grant it to him? And who is that who seeks My forgiveness, and I forgive him? (Hadith-Bukhari, Muslim).
· Take regular breaks during the night to avoid getting over-exhausted. Try switching between different forms of worship.

May Allah accept our prayers and allow us to take full benefit of this Mubarak Night and let us not forget our brothers and sisters all over the world who are being oppressed and facing extreme hardships.

Wednesday, June 25, 2014

Mumtaz Mahal and its Begum


Mumtaz Mahal: A distinct creature en-caged in zoo gallows for the past 45 years


In the most gaudy manner, the small temple-like structure at the zoo clearly imitates a Mughal fort with posters plastered over its walls of Mumtaz Mahal – a kitsune [half human, half fox]. Inside the special pavilion, a small creature over a cot-like table with a human face over a body of a fox aptly entertains zoo visitors.
Mumtaz Begum (top) is a regular feature at the Karachi Zoo and resides in the special pavilion (bottom). PHOTOS: EXPRESS
Former Gandhi Gardens, today the zoo has almost all animals caged, including chimpanzees, lions, tigers, elephants, stags and crocodiles but an encaged fox has yet to be seen. However, a fox-cum-human surely fits the phrase ‘beloved ornament of the palace’, which is the meaning for the title Mumtaz Mahal.
This mythical creature, depicting a thousand years of ideas about supernatural beings, promises to be different yet entertaining. After all, it is the only animal that can talk at the zoo. It looks like a princess with a bushy tail, but the naked truth is that it’s a dead fox that has the head of a man, dolled up like a woman.
People of all age groups enjoy the entertaining show, even if they know it is a trick-oriented one. “When I was young, we would get scared,” said an excited Zarish, 17, as she walked out of the pavilion. “Even if we knew it’s an optical illusion, it would still be entertaining and scary at times.”
Kamila, 52, said that Mumtaz begum never gets old. “It brings me back to all the memories from childhood, we would get spell-bound by her performance,” she recalled fondly. “I remember exactly the way Mumtaz would sound, the bright lipstick and  the cakey make-up and it is still the same.”
The experience
Entering the small crypt, the ‘maa-fauq-ul-fitrat’ [supernatural] goes on a narrative stead where she amusingly talked about how she hails from the savannas in Africa but is being kept in confinement, as she happily ate the cake, juices, biscuits and fruits. Mumtaz is a fortune-teller too. So a student instantly asked her about his visa status while a concerned mother wondered about her daughter’s proposal.
Once actor Adnan Siddiqui happened to be shooting at the zoo when the person impersonating Mumtaz begum asked for a picture with him, said zoo’s security in-charge, Sajid Husain.
His driver was so excited that God gave him an opportunity to meet her. Actress Resham and politician Sharmila Farooqi are also a few visitors Mumtaz loves to brag about.
Behind the scenes
Rahim Baksh Hero, a 52-year-old performer in various movies, has also served as Mumtaz Mahal for some time. “It is just like a drama,” he said, revealing trade secrets. “We prepare for it beforehand and put up the best show when the audiences visit.”
Murad, who is currently playing Mumtaz Begum, is in his late 20s. He lives at the zoo, said Usman, a superviser. “He wakes up at 6am for prayers and work-out and then gets to the ‘mahal’ at around 9,” he said. “He puts on make-up himself.” Usman admired how Murad earns his livelihood through this unique talent.
Not everyone is, however, happy with this feature at the zoo. “It is despicable and ignoble,” claimed AA Quraishy, the founder of the zoo. “The optical illusion is designed by showmen working for their livelihood and surely people with weak values are the ones who admire illusions they can’t comprehend.”
Published in The Express Tribune, July 8th, 2013.


Wednesday, March 5, 2014

Meri Zindagi To Firaaq Hai

Meri Zindagi To Firaaq Hai

Poet: Syed Naseer-Uddin Naseer


Meri Zindagi To Firaaq Hai, Wo Azal Se Dil Main Makeen Sahi
Wo Nigaah-E-Shauq Se Door Hain, Rag-E-Jaan Se Laakh Qareen Sahi

Hamain Jaan Deni Hai Aik Din, Wo Kisi Tarah Wo Kaheen Sahi
Hamain Aap Khainchiye Daar Par, Jo Nahin Koi To Hameen Sahi

Sar-E-Toor Ho, Sar-E-Hashr Ho, Hamain Intezaar Qabool Hai
Wo Kabhi Milen,Wo Kahin Milen,Wo Kabhi Sahi, Wo Kaheen Sahi

Na Ho Un Pe Kuchh Mera Bass Nahin, Ke Ye Aashqi Hai Hawas Nahin
Main Unhi Ka Tha, Main Unhi Ka Hun, Wo Mere Nahin, To Nahin Sahi

Mujhe Bhaithne Ki Jagah Milay, Meri Aarzoo Ka Bharam Rahay
Teri Anjuman Men Agar Nahin, Teri Anjuman Ke Qareen Sahi

Tera Dar To Hum Ko Na Mil Saka, Teri Rahguzar Ki Zameen Sahi
Hamain Sajda Karne Se Kaam Hai, Jo Wahan Nahin To Yaheen Sahi

Meri Zindagi Ka Naseeb Hai, Nahin Door Mujh Se Qareeb Hai
Mujhe Uska Gham To Naseeb Hai, Wo Agar Nahin To Naheen Sahi

Jo Ho Faislaa Woh Sunaaiye, Use Hashr Par Na Uthaaiye
Jo Karainge Aap Sitam Wahan, Wo Abhi Sahi, Wo Yaheen Sahi

Unhen Dekhne Ki Jo Lou Lagi, To 'Naseer' Dekh Hi Lainge Hum
Wo Hazaar Aankh Se Door Hon, Wo Hazaar Pardah Nasheen Sahi

Tuesday, February 11, 2014

تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں


تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں
امام الانبیاء دیکھوں، حبیب کبریا دیکھوں

وہ جن کے دم قدم سے صبح نے بھی روشنی پائی
منور کر دیا جس نے، فضا وہ رہنما دیکھوں

وہ جن کی برکتوں سے ابر و باراں بستے عالم میں
تمنا قلب مضطر کی وہ درِّ بے بہا دیکھوں

قدم باہر مدینہ سے تصور میں مدینہ ہے
الہی یا الہی عظمتوں کی انتہا دیکھوں

یہ دنیا بے ثبات و بے وفا و غم کا گہوارا
یہ ہے مطلوب: دارِ بے وفائی میں وفا دیکھوں

وہ مبدأ خلق عالم کا، درود ان پر سلام ان پر
میرے مولی یہ موقع دیں کہ ختم الانبیاء دیکھوں

کبھی ہو حسن کی محفل، کبھی ہو شوق کا منظر
کبھی آنسو کی زنجیروں میں عاشق کی صدا دیکھوں

رَسُولٌ قَاسُم الْخيْرَاتِ فِی الدُّنْيَا وَ فِی الْعُقْبی
شفیق از نفس ما در ما، نبی مجتبیٰ دیکھوں

در جنت پہ حاضر ہووں رسول پاک کے ہم راہ
شفاعت کا یہ منظر یا خدایا میں رضا دیکھوں

تمنا مدتوں سے ہے جمال مصطفیٰ دیکھوں
امام الانبیاء دیکھوں، حبیب کبریا دیکھوں